ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں /  کلبرگی میں ملیکارجن کھرگے کا زبردست خیر مقدم 

 کلبرگی میں ملیکارجن کھرگے کا زبردست خیر مقدم 

Mon, 04 Oct 2021 11:53:05    S.O. News Service

 کلبرگی ،4؍اکتوبر(ایس او نیوز؍راست)  ممتاز کانگریسی قائدڈاکٹر ملیکارجن کھرگے جب 2اکتوبرکو بذریعہ طیارہ دوپہر 12بجےکلبرگی  ایر پورٹ پہنچے تو ان کے خیر خواہوں اور کانگریسی کارکنان نے ایر پورٹ سے شہر تک موٹر سائیکلوں اور کاروں کا ایک بڑا خیر مقدمی جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل کارکنان ڈاکٹڑ ملیکارجن کھرگے اور کانگریس کی تائید میں نعرے بلند کررہے تھے۔کلبرگی پہنچنے پر کانگریسی قائیدین صدر ضلع کانگریس انجنئیر جگ دیو گتہ دار، سابق وزیر کرناٹک ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل، رکن اسمبلی و سابق وزیر کرناٹک پریانک کھرگے، رکن اسمبلی جیورگی ڈاکٹر اجئے سنگھ، رکن اسمبلی گلبرگہ کنیز فاطمہ قمر الاسلام، رکن اسمبلی افضل پور ایم وائی پاٹل، رکن اسمبلی بیدر جناب رحیم خان، سابق رکن قانون سازکونسل الم پربھو پاٹل، ضلع یادگیر کے کانگریسی قائیدین کے علاوہ نائب صدر ضلع کانگریس عبدالعزیز خرادی،و دیگر سینکڑوں کانگریسی کارکنان و قائیدین نے اس خیر مقدمی جلوس میں شرکت کی۔ ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے گاندھی جینتی کے موقع پر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کی گل پوشی کی اور بعد ازاں شری شرن بسویشور مندور اور درگاہ بندہ نواز ؒ پر حاضری دی۔ درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے سجادہ نشین حضرت سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینی نے اس موقع پر ڈاکٹر کھرگے کو گلبرگہ آمد پر مبارک دی۔ و  اضحرہے کہ ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے قائد اپوزیشن راجیہ سبھا منتخب کئے جانے کے بعد پہلی بار کافی طویل عرصہ کے بعد گلبرگہ کا دورہ کررہے تھے۔ گلبرگہ کے دورہ میں تاخیر کا سبب اس ضلع میں پھیلا ہوا کرونا وائیرس بھی تھا۔

    اس موقع پر جئے بھوانی فنکشن ہال کلبرگی میں ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کیخیر مقدمی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی کار گزار صدر ایشور کھنڈرے نے کہا کہمسٹرکھرگے ایک نہایت اصول پسند  اور کانگریس کے ایک اہم ترین قائد ہیں۔ در اصل وہ اپنی مسلسل جد و جہد اور پارٹی و عوام کی خدمت کے سبب اس مقام تک پہنچ سکے ہیں۔ لہٰذا علاقہ حیدر آباد کرناٹک اور ریاست کرناٹک کے عوام کو کبھیء بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ کھرگے وہ واحد لیڈر ہیں جو پارلیمینٹ میں راست طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کا سامنا کرسکتے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں ڈاکٹر کھرگے کو شکست کے سبب کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن یہ علاقہ حید آباد کرناٹک کے عوام کا بہت بڑا نقصان ہے۔

    ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے اپنی کلبرگی آمد پر خیر مقدم کے لئے تمام کانگریسی قائیدین و کارکنان، شہریان گلبرگہ اور عمائیدین شہر کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس، وزیر اعظم مودی  اور وزیر داخلہ امیت شاہ  گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں  زندگی میں پہلی بار ن کی شکست کے ذمہ دار ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر کھرگے اپنی زندگی بھر اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ صرف گزشہ پارلیمانی انتخابات میں ہی انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ مودی نے پارلیمینٹ میں ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھاکہ تمہیں آئیندہ پارلیمانی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اس وارننگ کوکلبرگی کے قائیدین اور عوام سمجھ نہیں سکے تھے۔ ڈاکٹر کھرگے نے کہا کہ وہ گزشہ پانچ دہوں سے عوام کی خدمت کررہے ہیں لیکن ملک میں کرونا کے پھیلنے کے سبب و ہ گزشتہ ایک سال چارہ ماہ سے کلبرگی  کا دورہ نہیں کرسکے تھے۔

    ڈاکٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس نے علاقہ حیدر آرباد کرناٹک (تبدیل شدہ نام کلیان کرناٹک) کو اپنے دور اقتدار میں دستور کی دفعہ 371 J کی ترمیم کے ذریعہ خصوصی موقف عطا کیا تھا لیکن اس کے برخلاف بی جے پی نے اس علاقہ کے لئے کون سا کارنامہ انجام دیا ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ کانگریس نے ملک کے لئے کیا کارنامے انجام دئئے ہیں؟۔ لیکن  میں پوچھتا ہوں کہہم نے اگر کچھ نہ کیا ہوتا تو کیا آپ زندہ رہ سکتے تھے۔ مودی حکومت کا کارنامہ پکوان گیاس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد مرکز کو 7, 25,000کروڑ روپیوں کا فائیدہ ہوا ہے۔ اگرچیکہ بی جے پی مخالف عوام پروگراموں پر کاربند ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ سوشئیل میڈیا پر وزیر اعظم کی ان جھوٹی باتوں کو پھیلا یا جارہا ہے۔

    ڈاکٹر کھرگے نے کہا کہ جب وہ مرکزی ریلوے تھے تو اس وقت اس محکمہ کے 14.5لاکھ ملازمین تھے۔ لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر 12.75لاکھ رہ گئی ہے۔ نئے عوامی قوانین کی تشکیل کے بعد چار انشورینس کمپنیاں مشکلات میں گھر گئی ہیں۔مسٹر کھرگے نے الزام عائد کیا کہ عوامی ملکیتوں کو خانگیا یا جارہا ہے۔ بی جے پی حکومت کانگریس کے تشکیل کردہ اور نافذ کردہ پروگراموں اور اسکیموں کو واپس لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں تشکیل کردہ آرٹیکل 371 Jکے سبب آج ہمارے طلبا کو آسانی کے ساتھ میڈیک اور انجنئیرنگ میں داخلے مل رہے ہیں۔ محترمہ سونیا گاندھی کے دور اقتدار میں ریاست بھر میں سات اضلاع کو چھوڑ کر روزگار کے معاملہ میں 8فی صد تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ اگر کسی دوسرے رکن پارلیمینٹ نے اس طرح کا کارنامہ انجام دیا ہے تو میں اپنا استعفی  ٰ دینے کو تیار ہوں۔ ڈکٹر کھرگے نے کہا کہ ملک میں آزادی نہیں ہے اور اور صحیفہ نگاران کے حقوق پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ یہی مودی جی کا  موافق عوامی انتظامیہ ہے۔

    مذکورہ بالا جلسہ میں صدر ضلع کانگریس کمیٹی جگ دیو گتہ دار، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کار گزار صدر ایشور کھنڈرے، کرناٹک اسمبلی میں کانگریس کے چیف وہپ ڈاکٹر اجئے سنگھ، ارکان  اسمبلی کنیز فاطمہ شرن بسپا درشنا پور، راج شیکھر پاٹل ہمنا آباد، ایم وائی پاٹل، سابق وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل، سابق رکن قانون ساز کونسل الم پربھو پاٹل شرناپا متور، تپنا کمکنور، سابق ارکان اسمبلی و دیگر شریک تھے۔


Share: